بنگلورو،17؍جولائی(ایس او نیوز) بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یونیورسٹی وشویشوریا کالج آف انجینئرنگ (یو وی سی ای) بنگلور جو بنگلور یونیورسٹی کا واحد انجینئرنگ کالج ہے ، وہ پچھلے بیس سالوں سے پچاس فیصد عملہ کی قلت کا شکار رہا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر کئے گئے پروفیسر کے آر وینو گوپال اس سے پہلے یو وی سی ای کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔وینو گوپال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ’’پچھلے بیس سالوں سے زیادہ عرصہ سے یہ کالج مختصر عملہ کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتا رہا ہے ، ہم نے ریاستی حکومت سے ان خالی عہدوں کو پر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور امید ہے کہ حکومت جلد ہی اس کی منظوری عطا کر دے گی‘‘۔
بنگلور یونویرسٹی سے حاصل کر دہ تفصیلات کے مطابق یو وی سی ای کے لئے منظور کر دہ تدریسی عملہ کے اراکین کی تعداد 175؍ہے جس میں صرف 96 عہدوں کو پر کیا گیا ہے اور یونیورسٹی نے باقی عہدوں کی بھر پائی کے لئے مہمان اساتذہ کا تقرر کیا ہوا ہے۔اساتذہ کی قلت کا مسئلہ نہ صرف کالج کے تعلیمی معیار کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے نیشنل بورڈ آف اکریڈیشن (این اے بی) میں اس کالج کے اندراج میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہے۔یو وی سی ای جو جاریہ سال اپنے قیام کے ایک سو سال مکمل کر چکی ہے اور صد سالہ تقاریب منا رہی ہے، ریاست بھر میں سب سے زیادہ مقبول انجینئرنگ کالج بھی ہے، اس کالج میں تقریباً 4500؍ انڈر گراجویشن کے طلباء مختلف تکنیکی شعبہ جات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ ’’این اے بی کی طرف سے اندراج حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے عہدوں کو پر کریں، ہم بورڈ میں اندراج حاصل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہم یو وی سی ای کو ایک خود مختار کالج بنانا چاہتے ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ یو وی سی ای کو ایک مستقل ڈیمڈ یونیورسٹی بنانے کا بھی منصوبہ ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’’حال ہی میں بنگلور یونیورسٹی کے سنڈکیٹ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے چار سال میں یونیورسٹی کی طرف سے وشویشوریا کالج آف انجینئرنگ کو ایک خود مختار تعلیمی ادارہ کے طور پر فروغ دیا جائے گا اور یہ کالج بنگلور (جنوبی) یونیورسٹی ہی کے ماتحت رہے گا اور اس تعلق سے اطلاع بنگلور مرکزی یونیورسٹی کو روانہ کر دی جائے گی‘‘۔ واضح رہے کہ یو وی سی ای کی ملکیت کے سلسلہ میں بنگلور (جنوبی ) یونیورسٹی اور بنگلور مرکزی یونیورسٹی کے درمیان ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔